غزل

کوزۂ فکر کو دریا سا بنا آتا ہوں

تشنگی فن کی لہو سے میں بجھا آتا ہوں

شازیب شہاب

 کوزۂ فکر کو دریا سا بنا آتا ہوں
تشنگی فن کی لہو سے میں بجھا آتا ہوں

خواب آنکھوں میں  لیے ایک پرندے  کی طرح
اپنے گھر شام ڈھلے روز چلا آتا ہوں

جذبۂ شوق پہ رقصاں ہے کسی کی ڈھڑکن
اس لیے بزمِ تمنا میں چلا آتا ہوں

زیست اک آس ہے سانسوں سے جڑے رہنے کی
مورتیں یاس کی دریا میں بہا آتا ہوں

خواہشِ وصل نہ گھبرائے شبِ ہجراں سے
مرقدِ دل پہ چراغوں کو جلا آتا ہوں

پا نہ لے سوزِ تکلم لبِ اظہار کہیں
آتشِ طور کو اشکوں سے بجھا آتا ہوں

مجھ کو یادوں کے جھروکوں سے نہ دیکھے کوئی
روزنِ رفتہ سے  چلمن کو گرا آتا ہوں

کیا پتا کب مری آواز پلٹ دے تختہ
شور سا شہرِ خموشاں میں مچا آتا ہوں

پیکرِ خاک میں احساس سنور جائے شہابؔ
چاکِ تشکیل پہ میں خود کو سجا آتا ہوں

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close