غزل

کہاں سے ڈھونڈ کر لائیں محبت

طالب ہاشمی

( برہان پور ایم۔پی)

مکاں پر اپنے لکھوائیں محبت

محبت کا بدل پائیں محبت

ہمیشہ ہوتی ہے نفرت کی بارش

کبھی بادل یہ برسائیں محبت

کوئی بھی حال ہو بچّوں سے اپنے

کیا کرتی ہیں بس مائیں محبت

نہیں مل سکتی ہے جس کو کہیں بھی

ہمارے دل سے لے جائیں محبت

نشاں ملتے نہیں ہیں اب تو اس کے

*کہاں سے ڈھونڈ کر لائیں محبت*

ہوا تھا جس جگہ مشہور مجنوں

اسی صحرا سے ہم لائیں محبت

چلو طالب میاں ہم بھی کسی دن

جبیں پر اپنی گدوائیں محبت

مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close