غزل

کہیں صدف کہیں گوہر کی لاش پانی میں

عمران فاروقی

کہیں صدف کہیں گوہر کی لاش پانی میں

چہار سمت ہیں پتھر کی لاش پانی میں

۔

سیاہ رات کے آنچل میں بلبلوں کا ہجوم

ڈبو رہا تھا بونڈر کی لاش پانی میں

۔

یہ سوچ کر کہیں تفتیش میں نہ پھس جاؤں

میں پھینک آیا سمندر کی لاش پانی میں

۔

زمانہ دیکھ رہا تھا کھڈا کنارے سے

ہمارے جلتے ہوے گھر کی لاش پانی میں

۔

خورچ کے آنکھ کی پتلی سے پھینک آیا ہوں

تمہارے شہر کے منظر کی لاش پانی میں۔۔

۔

رواں تھا امن کا دریا جہاں پے اے عمران

وہیں پڑی تھی کبوتر کی لاش پانی میں

مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close