غزل

کیا ہو سکا کسی سے مداوا سکوت کا

ذیشان الہی ٹانڈوی

کیا ہو سکا کسی سے مداوا سکوت کا
شہرِ صدا بنا ہے خرابہ سکوت کا

کیا کیا نہ دھیان میں رہی آواز کی ترنگ
جب کھینچنے لگا ہوں میں نقشہ سکوت کا

گونگے لبوں نے راز وہ افشا کئے کہ بس
ہونے لگا ہےجب بھی خلاصہ سکوت کا

نکلا یوں چیختا ہوا اپنے دروں سے میں
اطراف میں بکھر گیا ملبا سکوت کا

اب دیر تک میں بول سکوں گا ترے خلاف
اپنا لیا گیا ہے جو لہجہ سکوت کا

سنگِ صدا اچھال رہا تھا جہاں مگر
پیہم رواں دواں رہا دریا سکوت کا

اک بار ہونٹ چیر کے نکلا تھا کوئی حرف
پھر عمر بھر وہ سوگ منایا سکوت کا

جب تک ہوا نہیں تھا میں ذیشان لب کشا
چھایا ہوا یہاں تھا اندھیرا سکوت کا

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close