غزل

کیسے آئے قرار آنکھوں میں 

درد ہے بے شمار آنکھوں میں

جمیل اخترشفیق

کیسے آئے قرار آنکھوں میں

درد ہے بےشمار آنکھوں میں

اے   مصوّر   دکھا   ہنر  اپنا

ان کاچہرہ اتار آنکھوں میں

اس نے دیکھاہےکیسی نظروں سے

بڑھ   رہا  ہے  خمار  آنکھوں  میں

اس نےرکھاتھاہاتھ سینے پر

بڑھ گیا اعتبار آنکھوں میں

گررہی ہیں امید کی لاشیں

بن رہا ہے مزار آنکھوں میں

بےسبب بھی برسنےلگتی ہیں

کوئ رہتا ہے یار آنکھوں میں

بھر رہا ہے وہ کتنی خود داری

میرا  پروردگار  آنکھوں  میں

اس نے ہنس کر فقط سلام کیا

آگئ   ہے   بہار   آنکھوں  میں

جن  سے ملنا  شفیق  مشکل  ہے

اُن کی زلفیں سنوار آنکھوں میں

مزید دکھائیں

جمیل اختر شفیق

جمیل اخترشفیق صاحب کا تعلق صوبہ بہار کے مشہور ضلع سیتامڑھی کے باجپٹی بلاک کی ایک انتہائ پسماندہ بستی سنڈوارہ سے ہے۔ آپ شاعری کے علاوہ ملک کے درجنوں اخبارات ورسائل کے لیے زمانۂ طالبِ علمی ہی سے کالم لکھتے آئے ہیں اور خوب پڑھے جاتے رہے ہیں۔ ساتھ ہی ملک بھر میں مختلف مذہبی، ادبی، سماجی موضوعات پہ منعقد ہونے والے پروگرام میں بھی ان کی شرکت ہوتی رہتی ہے، ملک کے قد آور شعراء کی موجودگی میں وہ درجنوں آل انڈیا مشاعروں کی تاریخ ساز نظامت بھی کر چکے ہیں اور ایک کامیاب ناظم کی حیثیت سے بھی اُن کی شخصیت بڑی تیزی سے ابھر رہی ہے۔ ممبئ سے نشر ہونے والا ٹیوی چینل "آئی پلس ٹیوی" جسے دنیا بھر میں تین کروڑ سے زیادہ لوگ دیکھتے ہیں اس پہ "رنگ ونور ایک دینی مشاعرہ" کے تحت نشر ہونے والے مشاعرے کی نظامت کرتے ہوئے بھی انہیں ناظرین ہر جمعہ کو دن میں 2.30بجے اور رات میں 7.30بجے متواتر دیکھ رہے ہیں جو کہ بلاشبہ صوبہ بہار کی ادبی دنیا کے لیے فخر کی بات ہے۔

متعلقہ

Close