غزل

کیفی اعظمی اور احمد علی برقی اعظمی

ایک زمین کئی شاعر

کیفی اعظمی

وہ بھی سراہنے لگے ارباب فن کے بعد

داد سخن ملی مجھے ترک سخن کے بعد

دیوانہ وار چاند سے آگے نکل گئے

ٹھہرا نہ دل کہیں بھی تری انجمن کے بعد

ہونٹوں کو سی کے دیکھیے پچھتائیے گا آپ

ہنگامے جاگ اٹھتے ہیں اکثر گھٹن کے بعد

غربت کی ٹھنڈی چھاؤں میں یاد آئی اس کی دھوپ

قدر وطن ہوئی ہمیں ترک وطن کے بعد

اعلان حق میں خطرۂ دار و رسن تو ہے

لیکن سوال یہ ہے کہ دار و رسن کے بعد

انساں کی خواہشوں کی کوئی انتہا نہیں

دو گز زمیں بھی چاہئے دو گز کفن کے بعد

احمد علی برقی اعظمی

جائیں گی بلبلیں یہ کہاں اس چمن کے بعد

کیا اور بھی وطن ہے کوئی اس وطن کے بعد

مرغان خوش نوا کے ہیں ہوش و حواس گُم

جن کا کوئی چمن بھی نہیں اس چمن کے بعد

وہ دیکھتے ہی دیکھتے برباد ہوگیا

جو کچھ بچا کے رکھا تھا رنج و محن کے بعد

کرنے سے پہلے قتل مجھے سوچتے ہیں وہ

’’ دو گز زمیں بھی چاہئے دو گز کفن کے بعد ‘‘

ہوش و حواس میں جو نہیں پوچھتے مجھے

رکھیں گے کیا خبر مری دیوانہ پن کے بعد

کہنے کو قید و بند میں کرتے ہیں جو بسر

وہ عیش کررہے ہیں وہاں بھی غبن کے بعد

اس جرم بے گناہی کی اب پوچھتے ہیں وہ

ہے اور بھی سزا کوئی دار و رسن کے بعد

شاید کہ لوگ مجھ کو بھی پہچاننے لگیں

کیفی کی اس زمین میں مشقِ سخن کے بعد

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close