غزل

کیف و مستی نہ تو قرار میں ہے

کیف و مستی نہ تو قرار میں ہے
جو مزا فصل انتظار میں ہے

جانے کیا جستجو ہے دھڑکن کی
خواہش دل تو اختیار میں ہے

رابطہ حسن ہے محبت کا
اور محبت بس اعتبار میں ہے

وہ اکیلا کبھی تھا مثل ہجوم
آج تنہا جو بزم یار میں ہے

غم جو چھپ جائے پھر وہ غم ہی نہیں
غم تو ہر چشم اشک بار میں ہے

مجھ کو پاکر وہ بھول جاتا ہے
کس خوشی میں ہے کس خمار میں ہے

آئینہ دیکھ کر ہنسی آئے
دل سمجھ لے کسی کے پیار میں ہے

موت آتی ہے وقت پر اپنے
زندگی تو دغا شعار میں ہے

موت بہتر ہے اس سے ابن چمن
زندگی جو رہ فرار میں ہے

مزید دکھائیں

اشہد بلال ابن چمن

نام ۔ اشہدبلال چمن ابن افضال احمد چمن. تاریخ پیدائش ۔ ۲۶نومبر۱۹۸۰ء.تعلق ۔ محلہ چمن نگر،قصبہ بلریاگنج،ضلع اعظم گڑھ.تعلیم ۔ ۲۰۰۳ء میں جامعۃ الفلاح بلریاگنج سے عالمیت سے فراغت حاصل کی. ۱۹۹۵ء سے اپنے شعری سفر کا آغاز کیا اوراپنے والد کا تخلص چمنؔ کی مناسبت سے اپنا تخلص ابنِ چمنؔ رکھا. مقیم حال ۔ ابوظبی , متحدہ عرب امارات.

متعلقہ

Close