غزل

کیوں آئینے کے آگے جاتے جھجک رہا ہے

وہ کیسا داغ ہے جو تجھ کو کھٹک رہا ہے

مجاہد ہادؔی ایلولوی

کیوں آئینے کے آگے جاتے جھجک رہا ہے
وہ کیسا داغ ہے جو تجھ کو کھٹک رہا ہے

تاروں کے جیسا ہر وہ قطرہ چمک رہا ہے
خوفِ خدا سے آنکھوں سے جو چھلک رہا ہے

آیا نہیں ابھی تو رخصت کا وقت میرا
"دلبر کی یاد میں دل میرا دھڑک رہا ہے”

وہ دیکھتا نہیں ہے منہ پھیر کر بھی مجھ کو
کیا جانے اس کے دل میں ایسا کیا پک رہا ہے

کب سے تو تیرا میرا کرنے لگا ہے ظالم؟
ہندوستان اب تک تو مشترک رہا ہے

دشمن ہے اپنا شیطاں, دشمن سمجھنا اس کو
صبحِ ازل سے اس کو انساں کھٹک رہا ہے

جس سے تُو شہر میرا بھڑکا گیا تھا ظالم
وہ شعلہ آج تیرے گھر میں بھڑک رہا ہے

تیرے دکھائے رستے سے پائی سب نے منزل
کیوں ایسے راستے سے تُو خود بھٹک رہا ہے

ہر سمت بے حیائی پھیلی ہوئی ہے ہادؔی
عورت کے سر سے جب سے آنچل سرک رہا ہے

مزید دکھائیں

مجاہد ہادؔی ایلولوی

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پزیر شعر و سخن کا نیا ابھرتا ستارہ جناب مجاہد ہادؔی ایلولوی صاحب کا تعلق ہندوستان کے صوبہ گجرات سے ہیں, آپ پیشے سے عالمِ دین ہیں آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی وطن ایلول میں حاصل کی اس کے بعد مزید عربی اردو اور فارسی کی تعلیم کے حصول کے لئے اپنے علاقہ کا معروف ادارہ ( جامعہ اسلامیہ امداد العلوم وڈالی) کا رخ کیا اور وہی سے 2016 میں سند فضیلت حاصل کی اور اس کے بعد سے اب تک احمدآباد کے قریب شہر بوٹاد میں مقیم ہیں آپ کا تعلیق گجرات کے ضلع سابرکانٹھا کے ایک علمی خاندان سے ہیں آپ کے والد محترم کا اسمِ گرامی عمر ابن محمد پشوا ہیں وہ بھی پیشے سے عالمِ دین ہیں, آپ افق شعر و سخن کا ایک چمکتا ستارہ ہیں اور نئی نسل کے فعال ترین شعراء میں سے ایک ہیں

متعلقہ

Close