غزل

کیوں زمیں خاموش ہے اور آسماں خاموش ہے

اے خدا پھر آج کیوں سارا جہاں خاموش ہے 

محمد نعمت اللہ برہاروی

کیوں زمیں خاموش ہے اور آسماں خاموش ہے
اے خدا پھر آج کیوں سارا جہاں خاموش ہے

ظلم کی شدت بھی اتنی بڑھ گئی ہے ہر طرف

دیکھنے کے بعد بھی کیوں حکمراں خاموش ہے

لٹ رہا ہے دیش میرا گائے میں اور  چائے  میں

اب  بھی  لیکن  ملک  کا  نیتا  یہاں  خاموش  ہے

فیصلہ  بھی کر  رہا  تھا حق و باطل میں جو  کل
آج  کیوں  اس  قافلے  کا  مہرباں  خاموش  ہے

میں بھی کس کس کو سناٶں حال اپنا اب یہاں
جانتا  ہے  راز  جو  وہ  رازداں  خاموش  ہے

بات دل کی ساری میں نے نظم کردی شعر میں
آج  ہر  سو  اس  لیے  میری  زباں  خاموش  ہے

جب سے رکھا  ہے قدم  اس عشق  کی  دہلیز  پر
تب سے نعمتؔ کا قلم  بھی اب کہاں خاموش ہے

مزید دکھائیں

محمد نعمت اللہ برہاروی

محمد نعمت اللہ برہاروی اردو معلم ریاستی ترقی یافتہ مڈل اسکول چندولی (ہندی) کٹرہ مظفرپور آبائی وطن برہارا بابوبرہی ضلع مدہوبنی بہار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close