غزل

گزر رہے ہیں شب و روز کس زمانے میں

مرا ہی نام نہیں ہے مرے فسانے میں

احمد علی برقیؔ اعظمی

گزررہے ہیں شب و روز کس زمانے میں

مرا ہی نام نہیں ہے مرے فسانے میں

تھا عمر بھر کا مری ماحصل یہ خانۂ دل

لگی نہ دیر اسے بجلیاں گرانے میں

جسے وہ کہتے ہیں اب خرمنِ حیات اپنا

ہے میرا خونِ جگر اس کے دانے دانے میں

بھگت رہا ہوںسزا جرمِ بے گناہی کی

ہے روح جسم کے محصور قید خانے میں

کروں تو کیسے کروں عرضِ مدعا اس سے

لگا ہے اپنی ہی وہ داستاں سنانے میں

وہ جانتا ہے بخوبی کیا ہو جس نے عشق

جو لطف ملتا ہے کھو کر کسی کو پانے میں

ہوں آج سینہ سپر اس کے سامنے میں بھی

لگا ہے تیرِ نظر اپنا آزمانے میں

شعار اپنا تو تھا باہمی رواداری

’’یہ کون بانٹ رہا ہے مجھے زمانے میں‘‘

جسے پسند ہے فتنہ گری و ویرانی

ملے گا چین اسے بستیاں جلانے میں

غریبِ شہر کی جاں پر بنی ہے غربت سے

امیر شہر ہے مشغول مسکرانے میں

ہے تیری خاک میں شامل خمیر اعظم گڈہ

اثر اسی کا ہے برقیؔ ترے ترانے میں

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close