غزل

گستاخ ہیں نگاہیں ظالم جوانیاں ہیں 

عمران عالم

گستاخ ہیں نگاہیں ظالم جوانیاں ہیں

پھولوں کی وادیوں میں چنچل دِوانیاں ہیں

پردوں میں چھپ کے دیکھو جلوے دکھا رہی ہیں

کم ظرف شہر کی سب اندھی سلونیاں ہیں

اخبار کے ورق پر خبروں کے درمیاں میں

اندھی عقیدتوں کی کتنی نشانیاں ہیں

برسے کہیں پہ بادل برسے کہیں پہ شعلے

اترا کہیں پہ دریا  الجھی سواریاں ہیں

سائل جو کہہ رہا تھا آیا ابھی سمجھ میں

جھوٹی نہیں میاں  کچھ سچی کہانیاں ہیں

تاروں کے جھرمٹوں سے کیوں ہو گزر تمہارا

کاغذ کی کشتیوں پر پریوں کی رانیاں ہیں

عالم بچاؤ خود کو دنیا کے رنگ و بو سے

عمر رواں پہ بھاری سانسوں کی شوخیاں ہیں

مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close