غزل

ہر آنسو کو اپنے لہو کرتے کرتے

راجیش ریڈی

ہر آنسو کو اپنے لہو کرتے کرتے
ہوئیں بند آنکھیں وضو کرتے کرتے

میں‘ گم ہو گیا جستجو کرتے کرتے’
تجھے پا لیا تُو ہی تُو کرتے کرتے

اُدھڑتا رہا پیرہن زندگی کا
کٹی عمر ساری رفو کرتے کرتے

گذر جائے گی کیا یونہی زندگانی
اُسی کام کو ہو بہو کرتے کرتے

کٹھن ہے مگر کٹ ہی جائے گا رستہ
دُکھوں سے یونہی گفتگو کرتے کرتے

زمانے کی رسوائیاں مول لے لیں
ترا تذکرہ کو بہ کو کرتے کرتے

تری آرزو لے کے آئے تھے اک دن
چلے اب تری آرزو کرتے کرتے

ہمیں رشک آتا ہے اُن شاعروں پر
کٹی جن کی جام و سُبو کرتے کرتے

 

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close