غزل

ہر آدمی کا جیسے خدا ہے علیحدہ

احمد نثارؔ

جو شخص زندگی سے ہوا ہے علیحدہ

وہ مجھ کو مجھ سے کرکے گیا ہے علیحدہ

۔

سائے کو اپنے چھوڑ جیا ہے علیحدہ

اپنی قبائے شوق سیا ہے علیحدہ

۔

دیکھا گیا نہ جس سے یہ نفرت بھرا جہاں

اپنا ہی خون آپ پیا ہے علیحدہ

۔

کبر و انا کے ساتھ جیا تھاوہ زندگی

گور و کفن بغیر پڑا ہے علیحدہ

۔

دیکھیں گے کب تلک وہ جئے گا سکون سے

بچوں کو ماں سے جو بھی کیا ہے علیحدہ

۔

اس کا طبیب شیخ نہیں ناہی برہمن

یہ مرضِ عشق اس کی دوا ہے علیحدہ

۔

دیواریں مسلکوں کی چنی جارہی ہیں یوں

ہر آدمی کا جیسے خدا ہے علیحدہ

۔

دستِ دعا اٹھا کے یوں چپ چاپ ہو نثارؔ

جیسے تمہارے دل کی دعا ہے علیحدہ

مزید دکھائیں

احمد نثار

نام سید نثار احمد، قلمی نام احمد نثار۔ جائے پیدائش شہر مدنپلی ضلع چتور آندھرا پردیش۔ درس و تدریس سے رضاکار موظف۔ اردو ادب، شاعری، تحقیق، ٹرائننگ اہم دلچسپیاں۔ انگریزی، ہندی تیلگو اور اردو زبانوں میں مہارت۔ کمیونکیشن اسکلز ایکسپرٹ۔ شعری مجموعہ روحِ کائنات، کہکشانِ عقیدت (نعتیہ مجموعہ) سکوتِ شام (زیرِ ترتیب)، تصنیف مواصلاتی مہارات برائے بی یو یم یس طلباء (Communication Skills for BUMS Students) ۔ ویکی پیڈین و ویکی میڈین۔ فی الحال رہائش پونے/ممبئی، مہاراشٹر۔

متعلقہ

Close