غزل

ہر بات میری رد کرو اور خوش رہو

افتخار راغبؔ

ہر بات میری رد کرو اور خوش رہو

مجھ پر ستم کی حد کرو اور خوش رہو

۔

 احسان غیروں کا نہیں لینا مجھے

اونچا تم اپنا قد کرو اور خوش رہو

۔

درگت سے میری گر نکھر اٹھتے ہو تم

تزئینِ خال و خد کرو اور خوش رہو

۔

غیروں سے بھی مل کر ہماری آہ پر

پابندیاں عائد کرو اور خوش رہو

۔

اف کس قدر تم کو ملے دکھ میرے ساتھ

سو خود کو اب مفرد کرو اور خوش رہو

۔

کارِ زیاں ہے عشق تو چھوڑو مجھے

ہر کام با مقصد کرو اور خوش رہو

۔

دیکھو کہیں پھر سے سنبھل جائیں نہ ہم

برباد صد فی صد کرو اور خوش رہو

۔

اغیار جب راغبؔ ہوں اپنوں سے قریب

تم بھی وہی شاید کرو اور خوش رہو

مزید دکھائیں
Close