غزل

ہر لفظ ہے ابہام، نہ چِیدہ نہ چُنیدہ

ادریس آزاد

 ہرلفظ ہے ابہام، نہ چِیدہ نہ چُنیدہ
کوئی نہیں پیغام، نہ چِیدہ نہ چُنیدہ

۔

جو ماہ ترے غم میں گزرجائے مبارک
ہے صورتِ ایّام نہ چِیدہ نہ چُنیدہ

۔

گاہے یہ نہ گہنائے تو مرجائے قسم سے
سُورج کی کوئی شام نہ چِیدہ نہ چُنیدہ

۔

بس ایک تری راہ کو تکنے کے سوا اور
دنیا میں کوئی کام نہ چِیدہ نہ چُنیدہ

۔

تُو آئے کہ میں جاؤں خداؤں کی بلاسے
ہے تیرامرانام نہ چِیدہ نہ چُنیدہ

۔

ہم یار کے، اغیار کے، ہونٹوں پہ دھرے ہیں
تم پر کوئی الزام نہ چِیدہ نہ چُنیدہ

۔

آغازِمحبت پہ تو دونوں کی رضا تھی
کیسے ہواانجام نہ چِیدہ نہ چُنیدہ

۔

ہم یوں تو بہت خاص تھے پر عمر بسرکی
لوگوں کی طرح عام، نہ چِیدہ نہ چُنیدہ

۔

آزاد بھی نیلام ہوا ہے سرِبازار
جس دم نہ کوئی دام نہ چِیدہ نہ چُنیدہ

مزید دکھائیں

ادریس آزاد

ادریس آزاد (7 اگست 1969ء) پاکستان کے معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اورکالم نگار ہیں۔ انہوں نے فکشن، صحافت، تنقید، شاعری، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا اصل نام ادریس احمد ہے تاہم اپنے قلمی نام ادریس آزاد سے جانے جاتے ہیں۔ بطور شاعر انہوں نے بے شمار نظمیں تحریر کی ہیں جو روایتی مذہبی شدت پسندی کے برعکس روشن خیالی کی غماز ہیں۔ ان کی مشہور کتب ’عورت، ابلیس اور خدا، ’اسلام مغرب کے کٹہرے میں‘ اور ’تصوف، سائنس اور اقبالؒ‘ ان کے مسلم نشاۃ ثانیہ کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ روزنامہ دن، ’آزادانہ‘ کے عنوان سے ان کے کالم شائع کرتا ہے ۔

متعلقہ

Close