غزل

ہر لمحہ آتش عشق مجھ کو جلا رہی ہے

کبھی تو ہنسا رہی ہے پر اکثر رلا رہی ہے

بشارت علی بٹ عاجز

ہر لمحہ آتش عشق مجھ کو جلا رہی ہے

کبھی تو ہنسا رہی ہے پر اکثر رلا رہی ہے

سینا جلا رہی ہے میرے آنسوں بہا رہی ہے

شب و روز جل رہی ہے نیندیں اڑا رہی ہے

یادوں کا اس میں ایندھن بڑھتے ہی جا رہا ہے

دوزخ کی تپش بھی اس سے مات کھا رہی ہے

یہ زندگی تو اس نے مشکل بنا دی لیکن

تیری دید کے سہارے ہی بیتی جارہی ہے

عاجز کے دل کو تم نے اک گلستاں بنایا

ھر دم عجب سی خوشبو اب اس سے آرہی ہے

مزید دکھائیں

بشارت علی بٹ

بشارت علی ڈوڈہ جموں و کشمیر پی ایچ ڈی اسکالر فارسی مولانا آزاد اردو یونیورسٹی لکھنؤ

متعلقہ

Close