ہر چند کہ انصاف کا خواہاں بھی وہی ہے

عرفان وحید

ہر چند کہ انصاف کا خواہاں بھی وہی ہے

قاتل بھی وہی اور نگہباں بھی وہی ہے

بربادیٔ گلشن کا جو سامان بنا تھا

بربادیٔ گلشن پہ پشیماں بھی وہی ہے

ہے نسبت ِنومیدیٔ تاریکیٔ شب جو

اک مژدۂ امید ِفروزاں بھی وہی ہے

پانی میں تلاطم بھی اسی چاند کے باعث

اور اپنی ادا دیکھ کے حیراں بھی وہی ہے

تطہیرِ سیاست کا بھی دعویٰ ہے اُسی کو

تنقیدِ حکومت سے گریزاں بھی وہی ہے

مشکل ہے مفر وحشتِ تنہائی سے عرفان

جو قریہ ہے آباد، بیاباں بھی وہی ہے

⋆ عرفان وحید

عرفان وحید

عرفان وحید کا تعلق پنجاب کے شہر مالیر کوٹلہ سے ہے۔ آپ پیشے سے انجینیر ہیں۔ عرفان نے اردو اور انگریزی میں قریباً ۲۰ کتابیں ترجمہ کی ہیں۔ آپ انگریزی ماہنامے ‘دی کمپینیئن’ اور انگریزی پورٹل ‘ہیڈلائنز انڈیا’ کے ایڈیٹر بھی رہ چکے ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

بچوں کے خلاف جرائم: ایک لمحۂ فکریہ

جرائم کے ریکارڈ بولتے ہیں کہ روزانہ کتنی ہی زینب وحشی درندوں کی ہوس کا شکار ہوجاتی ہیں۔ یہ انسانیت کا پست ترین مقام ہے۔ زینب کا مجرم اب بھی قانون کی گرفت میں نہیں آسکا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اسے بھرے پرے بازار سے اغوا کیا گیا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ عام لوگ مجرم کو پکڑنے میں آگے نہیں آتے ہیں۔ اس صورت حال پر ایک عبر ت انگیز واقعہ پیش کرتا ہوں جسے فیس بک پر نعیم اکرام نے نقل کیا ہے۔ اگرچہ یہ موضوع سے راست متعلق نہیں ہے تاہم ایک اہم نکتے کی طرف اشارہ ضرور کرتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے