غزل

ہر کمینے کی ہم نے عزت کی

اب تو حد ہو گئی شرافت کی 

عبدالکریم شاد

ہر کمینے کی ہم نے عزت کی

اب تو حد ہو گئی شرافت کی

کس طرح نفس سے بغاوت کی

"تم نے سچ بولنے کی جرأت کی”

اس نے آنکھوں سے کیا شرارت کی

ابتدا ہو گئی محبت کی

عقل نے بارہا سیاست کی

دل نے ہر بار بادشاہت کی

کیا کہوں عشق نے وہ حالت کی

ایسی تیسی ہوئی طبیعت کی

تو نے اس دور میں محبت کی

داد دیتا ہوں تیری ہمت کی

دخل کچھ ہے تری اداؤں کا

کچھ خرابی ہے میری نیت کی

میرے اندر تو ہیں کئی اشخاص

تو نے کس شخص سے محبت کی

حق ادا کر دیا محبت کا

جس نے اللہ سے محبت کی

سب کو خواہش ہے داخلے کی مگر

پاس چابی نہیں ہے جنت کی

چھوڑ انگلی مری کبھی اے وقت!

رک، ذرا سانس لے لوں راحت کی

کس قیامت کا انتظار ہے شاد!

وقت کی چال ہے قیامت کی

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close