غزل

ہر ہنسی کو اجاڑ دیتے ہیں

راجیش ریڈی

ہر ہنسی کو اجاڑ دیتے ہیں
کھیل آنسو بگاڑ دیتے  ہیں

روز اٹھاتے ہیں کھود کر خود کو
روز پھر خود میں ،، گاڑ دیتے ہیں

جانے ہم کیا بنانے والے ہیں
روز کچھ توڑ تاڑ دیتے ہیں

روز دنیا کی دھول لگتی ہے
روز ہم جس کو جھاڑ دیتے ہیں

اب تو بچے بھی گھر کے بوڑھوں کو
آتے جاتے ______ لتاڑ دیتے ہیں

روز کرتے ہیں خود سے دو دو ہاتھ
روز خود  کو     پچھاڑ دیتے ہیں

وہ اترتا کہاں ہے لفظوں میں
روز لکھتے ہیں پھاڑ دیتے ہیں

خواب اچھے ہیں آسماں کے، مگر
یہ زمیں  سے    اکھاڑ دیتے ہیں

 

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close