ہزار رنجِ سفر ہے حضر کے ہوتے ہوئے

عرفان وحید

ہزار رنجِ سفر ہے حضر کے ہوتے ہوئے

یہ کیسی خانہ بدوشی ہے گھر کے ہوتے ہوئے

وہ حبسِ جاں ہے برسنے سے بھی جو کم نہ ہوا

گھٹن غضب کی ہے اک چشم تر کے ہوتے ہوئے

مرے وجود کو پیکر کی ہے تلاش ابھی

میں خاک ہوں ہنرِ کوزہ گر کے ہوتے ہوئے

سحر اجالنے والے کرن کرن کے لیے

ترس رہے ہیں فروغِ سحر کے ہوتے ہوئے

ہر انکشاف ہے اک انکشافِ لاعلمی

کمالِ بے خبری ہے خبر کے ہوتے ہوئے

گریزاں مجھ سے رہا ہے ہر ایک سایۂ دیوار

میں دھوپ دھوپ جلا ہوں شجر کے ہوتے ہوئے

ہم اس سے مل کے کریں عرضِ حال کچھ عرفان

محال ہے یہ دلِ حیلہ گر کے ہوتے ہوئے

⋆ عرفان وحید

عرفان وحید

عرفان وحید کا تعلق پنجاب کے شہر مالیر کوٹلہ سے ہے۔ آپ پیشے سے انجینیر ہیں۔ عرفان نے اردو اور انگریزی میں قریباً ۲۰ کتابیں ترجمہ کی ہیں۔ آپ انگریزی ماہنامے ‘دی کمپینیئن’ اور انگریزی پورٹل ‘ہیڈلائنز انڈیا’ کے ایڈیٹر بھی رہ چکے ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

بچوں کے خلاف جرائم: ایک لمحۂ فکریہ

جرائم کے ریکارڈ بولتے ہیں کہ روزانہ کتنی ہی زینب وحشی درندوں کی ہوس کا شکار ہوجاتی ہیں۔ یہ انسانیت کا پست ترین مقام ہے۔ زینب کا مجرم اب بھی قانون کی گرفت میں نہیں آسکا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اسے بھرے پرے بازار سے اغوا کیا گیا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ عام لوگ مجرم کو پکڑنے میں آگے نہیں آتے ہیں۔ اس صورت حال پر ایک عبر ت انگیز واقعہ پیش کرتا ہوں جسے فیس بک پر نعیم اکرام نے نقل کیا ہے۔ اگرچہ یہ موضوع سے راست متعلق نہیں ہے تاہم ایک اہم نکتے کی طرف اشارہ ضرور کرتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے