غزل

ہزار رنجِ سفر ہے حضر کے ہوتے ہوئے

عرفان وحید

ہزار رنجِ سفر ہے حضر کے ہوتے ہوئے

یہ کیسی خانہ بدوشی ہے گھر کے ہوتے ہوئے

وہ حبسِ جاں ہے برسنے سے بھی جو کم نہ ہوا

گھٹن غضب کی ہے اک چشم تر کے ہوتے ہوئے

مرے وجود کو پیکر کی ہے تلاش ابھی

میں خاک ہوں ہنرِ کوزہ گر کے ہوتے ہوئے

سحر اجالنے والے کرن کرن کے لیے

ترس رہے ہیں فروغِ سحر کے ہوتے ہوئے

ہر انکشاف ہے اک انکشافِ لاعلمی

کمالِ بے خبری ہے خبر کے ہوتے ہوئے

گریزاں مجھ سے رہا ہے ہر ایک سایۂ دیوار

میں دھوپ دھوپ جلا ہوں شجر کے ہوتے ہوئے

ہم اس سے مل کے کریں عرضِ حال کچھ عرفان

محال ہے یہ دلِ حیلہ گر کے ہوتے ہوئے

مزید دکھائیں

عرفان وحید

عرفان وحید کا تعلق پنجاب کے شہر مالیر کوٹلہ سے ہے۔ آپ پیشے سے انجینیر ہیں۔ عرفان نے اردو اور انگریزی میں قریباً ۲۰ کتابیں ترجمہ کی ہیں۔ آپ انگریزی ماہنامے 'دی کمپینیئن' اور انگریزی پورٹل 'ہیڈلائنز انڈیا' کے ایڈیٹر بھی رہ چکے ہیں۔

متعلقہ

Close