غزل

ہمارے شہر میں  رہتے ہیں مارنے والے

شاہ روم خان ولی

(کراچی، پاکستان) 

ہمارے شہر میں  رہتے ہیں مارنے والے

خیال رکھنا یہاں  شب  گزارنے والے

۔

عجیب شکل کے لوگوں میں ہم شمار ہوئے

کہیں سے آئیں ہمیں اب سدھارنے والے

۔

کسی سے کس لئے انصاف مانگنے جاؤں

یہاں  وکیل بھی ملتے ہیں ہارنے والے

۔

ابھی تو قبر پہ کتبے تمہارے نام کے ہیں

کہاں ملیں  تمہیں زندہ پکارنے والے

۔

ابھی تو ہاتھ سے تعویز بھی نہیں اترا

صلیبِ ہجر سے مجھ کو اتارنے والے

۔

لپٹ چکے ہیں مرے شاخِ دل شجر سے جو

حسین ناگ ہیں یہ روپ دھارنے والے

۔

میں خود کو دور کروں کیوں بدن کی سرحد سے

ہمارے ساتھ ولی ہیں سنوارنے والے

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close