غزل

ہمیں سفر میں بھٹکنے کا ڈر نہ تھا کوئی

راجیش ریڈی

ہمیں سفر میں بھٹکنے کا ڈر نہ تھا کوئی
کہ ہم سفر تھے سبھی راہبر نہ تھا کوئی

کچھ ایک دن کے لئے یا ریاں رہیں سب سے
مگر ہمارا وہاں عمر بھر نہ تھا کوئی

کسی کے آنے کی آہٹ سنائی دیتی رہی
کسی کے آنے کا امکاں مگر نہ تھا کوئی

تو کون تھا جو نظر آئینے میں آتا رہا
مرے سوا بھی کہیںمجھ میں گر نہ تھا کوئی

وہ جس کی شاخ پہ کچھ پل پرند رہ لیتے
تمام شہر میں ایسا شجر نہ تھا کوئی

سب اپنے عیب کو اپنا ہنر بناتے رہے
ہمارے پاس ہی ایسا ہنر نہ تھا کوئی

ہمارے شہر میں اخبار پڑھنے والے تو تھے
ہمارے شہر میں پر با خبر نہ تھا کوئی

تمام عمر پیا زہرِ زندگی ہم نے
اک ایسا زہر کہ جس کا اثر نہ تھا کوئی

 

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close