غزل

ہمیں چمکنے سے فرصت نہ اُن کو جلنے سے

افتخار راغبؔ

شگفتہ غزل

 ہمیں چمکنے سے فرصت نہ اُن کو جلنے سے

پہ ہاتھ صاف ہیں یاروں کے ہاتھ ملنے سے

 ہے اُن کا دعویٰ کہ لائیں گے اب وہ اچھے دن

وہ سارے پیڑ جو بھاگے ہوئے ہیں پھلنے سے

 ہے مکُا یاد مگر ہر کسی سے کہتا ہوں

کہ دانت ٹوٹ گئے ہیں مرے پھسلنے سے

 پکا پکا کے خیالی پلاو کھاتا ہوں

اگرچہ ہے بڑا پرہیز عمر ڈھلنے سے

 نہ تھا جہاں میں موبائل تو دبلے تھے عاشق

گلی میں یار کی فرصت نہ تھی ٹہلنے سے

 اچھل اچھل کے نہ تقریر کیجیے صاحب

"بلند ہوتا ہے انساں کہیں اچھلنے سے”

 دوا بدل کے بھی حاصل نہ کچھ ہوا راغبؔ

بہت افاقہ ہے اب قافیہ بدلنے سے

مزید دکھائیں

افتخار راغب

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پذیر، علمبردارِ توازنِ لفظ و معنی ، بدرِ آسمانِ شعر و سخنِ قطر اور افتخارِ بزمِ اردو قطر جناب افتخار راغبؔ کا تعلق ہندوستان کے صوبہ بہار سے ہے۔ پیشے سے سول انجنئیر ہیں اور 1998 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے بی ٹیک کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد مارچ 1999 سے قطر میں ملازمت کے سلسلے میں مقیم ہیں۔ آپ کے چار شعری مجموعۂ کلام، ’لفظوں میں احساس‘ ، ’خیال چہرہ‘ ، ’غزل درخت‘ اور 'یعنی تو' منظرِ عام پر آکر مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔ غزلوں کا پانچواں مجموعہ اور مزاحیہ شاعری کا پہلا مجموعہ زیرِ ترتیب ہیں۔ آپ کی شاعری کی اینڈرائڈ ایپ بھی بن چکی ہے جسے Google Play Store میں Iftekhar Raghib - Urdu Poetry لکھ کر تلاش کرکے انسٹال کیا جا سکتا ہے اس میں چاروں مجموعہ غزلیات دیدہ زیب انداز میں موجود ہیں. افتخار راغبؔ کا شمار قطر کے فعال ترین ادبی شخصیات میں ہوتا ہے۔ آپ قطر کی قدیم ترین اردو تنظیم بزمِ اردو قطر کے 2010 سے جنرل سکریٹری ہیں اور دیگر ادبی تنظیموں میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ آپ اپنے پختہ کلام کے حوالے سے پوری اردو دنیا میں نئی نسل کے شعراء میں منفرد شناخت رکھتے ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close