غزل

ہم اپنے آپ  سے  پیچھا  چُھڑانے لگتے ہیں

بہت سے فیصلے جب دل دُکھانے لگتے ہیں

جمیل اخترشفیق

ہم اپنے آپ  سے  پیچھا  چُھڑانے لگتے ہیں

بہت سے فیصلے جب دل دُکھانے لگتے ہیں

غزل کا درد سمجھتے نہیں مگرسن کر

عجیب لوگ ہیں تالی  بجانے  لگتے ہیں

میں جن کے واسطے پلکیں بچھائے پھرتا ہوں

وہ لوگ مجھ سے ہی نظریں چرانے لگتے ہیں

ستم تو یہ ہے کہ اس عہد کے مفاد پرست

مرے  خلوص  پہ  انگلی  اٹھانے  لگتے ہیں

ضمیر بیچ   کے  شہرت  خریدنے والے

مجھے عروج کا نسخہ بتانے لگتے ہیں

جنہیں پتہ نہیں خود ان کے ساتھ کیا ہوگا

وہ  میرے  حال   پہ  آنسو  بہانے لگتے ہیں

میں رونے لگتا ہوں جس وقت آدھی راتوں میں

ہزاروں  خواب  مجھے   چپ   کرانے   لگتے ہیں

شفیق جب بھی نکلتا ہوں چھوڑ کر خود کو

عجیب    دکھ  ہے  قدم   لڑکھڑانے  لگتے ہیں

مزید دکھائیں

جمیل اختر شفیق

جمیل اخترشفیق صاحب کا تعلق صوبہ بہار کے مشہور ضلع سیتامڑھی کے باجپٹی بلاک کی ایک انتہائ پسماندہ بستی سنڈوارہ سے ہے۔ آپ شاعری کے علاوہ ملک کے درجنوں اخبارات ورسائل کے لیے زمانۂ طالبِ علمی ہی سے کالم لکھتے آئے ہیں اور خوب پڑھے جاتے رہے ہیں۔ ساتھ ہی ملک بھر میں مختلف مذہبی، ادبی، سماجی موضوعات پہ منعقد ہونے والے پروگرام میں بھی ان کی شرکت ہوتی رہتی ہے، ملک کے قد آور شعراء کی موجودگی میں وہ درجنوں آل انڈیا مشاعروں کی تاریخ ساز نظامت بھی کر چکے ہیں اور ایک کامیاب ناظم کی حیثیت سے بھی اُن کی شخصیت بڑی تیزی سے ابھر رہی ہے۔ ممبئ سے نشر ہونے والا ٹیوی چینل "آئی پلس ٹیوی" جسے دنیا بھر میں تین کروڑ سے زیادہ لوگ دیکھتے ہیں اس پہ "رنگ ونور ایک دینی مشاعرہ" کے تحت نشر ہونے والے مشاعرے کی نظامت کرتے ہوئے بھی انہیں ناظرین ہر جمعہ کو دن میں 2.30بجے اور رات میں 7.30بجے متواتر دیکھ رہے ہیں جو کہ بلاشبہ صوبہ بہار کی ادبی دنیا کے لیے فخر کی بات ہے۔

متعلقہ

Close