غزل

ہم عمرِ رائیگاں کی تھکن یوں اُتارتے

پیڑوں کے ساتھ رشتۂ غَم اُستوارتے

ادریس آزاد

 ہم عمر ِرائیگاں کی تھکن یوں اُتارتے
پیڑوں کے ساتھ رشتۂ غَم اُستوارتے

تم وہ حَسِین ہو کہ قسم سے تمہارا نام
ہم بت شکن نہ ہوتے تو ہم بھی پکارتے

چوری میں ہاتھ کٹ گئےورنہ غزل سرا
منظر نکالتے، کوئی پیکر سنوارتے

اے کاش ہم ہمالیہ ہوجا تے اور تُم
ہم میں سے اپنی جھیل کا دریا گزارتے

ہم سادگی میں کل سے نکل آئے آج میں
کب تک جمال یاس کے پیکر مزارتے

اب آگئی تھی بات تمہارے جمال پر
بازی نہ جیت سکتےتھےگر ہم نہ ہارتے

کتنے پھلوں کا بوجھ اُٹھاناہے اب کی بار
ہم بھی درخت ہوتے تو پتھر شمارتے

دربار ِ مشک بار کی خلعت اُتار دی
اُس پیکر ِ دروغ کو کب تک نکھارتے

مزید دکھائیں

ادریس آزاد

ادریس آزاد (7 اگست 1969ء) پاکستان کے معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اورکالم نگار ہیں۔ انہوں نے فکشن، صحافت، تنقید، شاعری، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا اصل نام ادریس احمد ہے تاہم اپنے قلمی نام ادریس آزاد سے جانے جاتے ہیں۔ بطور شاعر انہوں نے بے شمار نظمیں تحریر کی ہیں جو روایتی مذہبی شدت پسندی کے برعکس روشن خیالی کی غماز ہیں۔ ان کی مشہور کتب ’عورت، ابلیس اور خدا، ’اسلام مغرب کے کٹہرے میں‘ اور ’تصوف، سائنس اور اقبالؒ‘ ان کے مسلم نشاۃ ثانیہ کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ روزنامہ دن، ’آزادانہ‘ کے عنوان سے ان کے کالم شائع کرتا ہے ۔

متعلقہ

Close