غزل

ہم کو آنکھوں سے جب وہ پلانے لگے

شیخ جی بے سبب تلملانے لگے

ڈاکٹر فیاض احمد علیگ

ہم کو آنکھوں سے جب وہ پلانے لگے

شیخ جی بے سبب تلملانے لگے

کوئی جا کر مرے کوزہ گر سے کہے
میری مٹی بھی اب تو ٹھکانے لگے

روٹھ کر بے سبب کشمکش میں ہے وہ
میرے سینے سے اب  کس بہانے لگے

نور حق کا جو پھیلا تو پھر یہ ہوا
لوگ اپنے دئے خود بجھانے لگے

لاج ساقی کی رکھنی تھی ہم کو یہاں
اس لئے بن پئے لڑکھڑانے لگے

غور سے میں نے دیکھا جو اس کی طرف
اس کے چہرے پہ رنگ آنے جانے لگے

خود شناسی ہے فیاض مشکل بہت
خود سے ملنے میں مجھ کو زمانے لگے

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close