غزل

ہم کو اس درجہ پسند آیا تھا داغِ امّید

ہم نے جلتا ہی رکھا ہائے چراغِ امّید

الف اطہر نعیمی

ہم کو اس درجہ پسند آیا تھا داغِ امّید

ہم نے جلتا ہی رکھا ہائے چراغِ امّید

عرض کیا کیجئے نومید ہواؤں کا ستم

پھر پنپنے ہی نہ پایا کبھی باغِ امّید

تلخیء گردشِ ایّام کا کب ہوش رہا

کتنا پرکیف تھا واللہ ایاغِ امّید

خاک شہرِ غمِ الفت کی کھنگالی ہم نے

ہوگئے خاک نہ مل پایا سراغِ امّید

ہوگیا دیکھ! تہ و بالا مسرت کا جہاں

کم نہیں قہرِ قیامت سے فراغِ امّید

رہ نوردانِ محبت کو یہ سمجھائے کوئی

موت ہے موت فقط منزلِ راغِ امّید

لوگ کہتے ہیں جسے پیکِ تباہی اطہر

بستیء عشق پہ منڈلائے ہے زاغِ امّید

مزید دکھائیں

2 تبصرے

  1. واہ،، کیا کہنے،، بہترین تخیلات کی عکاسی اور مظاہرہ کرتا ہو ایہ کچھ اشعار
    جو کہ محترم الف اطہر صاحب نعیمی نے قلم بند کئے ہیں،، ان کی شاعری میں ندرت،، جدیدیت،، حساسیت بدرجہء اتم پائی جاتی ہے،، اچھی شخصیت کے مالک ہیں،، شعر وشاعری سے کافی شغف رکھتے ہیں
    اور اپنی شاعری سے اردو اد ب کے حلقے میں ایک الگ پہچان اور صاحب شعروسخن کی حیثیت سے جانے اور پہچانے جاتے ییں،

    دعا ہے کہ اللہ تعالی محترم الف اطہر نعیمی صاحب اور مضامین ڈاٹ کام کو دن دونی را ت چوگنی ترقی عطا فرمائے

    1. سراپا شکرگزار ہوں جناب۔۔ اس قدر مخلصانہ ستائش نے میرے حوصلوں کو جلا بخشی۔۔ دل آپ کو مشکور جان رہا ہے۔۔ شاد رہیں حضور۔۔

متعلقہ

Close