غزل

ہم کو سکونِ دل ملا غربت کے باوجود

خان حسنین عاقب

ہم کو سکونِ دل مِلا غربت کے باوجود

کچھ لوگ مضطرب رہے دولت کے باوجود

دِل نے تو کہہ رکھا تھا کہ ان کو سنبھل کے دیکھ
اب آنکھ مَل رہا ہوں بصارت کے باوجود

دل کی نمی جو پہلے تھی ، جانے کدھر گئی
بہتے نہیں ہیں اشک ندامت کے باوجود

اس دَور نے بدل دئے مفہومِ دوستی
دوری بنی ہوئی ہے رفاقت کے باوجود

اک بوند آگے بڑھ کے زمیں پر برس پڑی
بادل کئی تھمے رہے عظمت کے باوجود

اک وہ کہ جھوٹ بول کے میدان لے گیا
اک ہم کہ چُپ تھے اپنی صداقت کے باوجود

وہ دن بھی تھے کہ میرے سِوا سوجھتا نہ تھا
مِلتے نہیں ہیں اب تو وہ فرصت کے باوجود

آدابِ پرورِش ہیں کہ اولاد پر کبھی
لازم ہیں سختیاں بھی محبت کے باوجود

عاقب عجیب شخص کہ مشہور ہے مگر
گمنام رہتا ہے کہیں شہرت کے باوجود

مزید دکھائیں

خان حسنین عاقب

خان حسنین عاقبؔ اردو ، ہندی اور انگریزی زبان و ادب کی معروف شخصیت ہیں۔ ان کی مطبوعہ کتابوں میں مجموعہ ء غزلیات ّرمِ آہوٗ ، ّخامہ سجدہ ریزٗ اور ّاقبالؔ بہ چشمِ دِل ٗ شامل ہیں۔ موصوف ترجمہ نگاری میں بھی اپنا مقام رکھتے ہیں۔ معاصر رسائل اور اخبارات میں ان کی شعری و نثری تحریریں شائع ہوتی رہتی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close