غزل

ہنس ہنس کے نہ یوں ڈال محبت کی نظر اور

 حضرت داغ دہلوی کی زمین میں

افتخار راغبؔ

ہنس ہنس کے نہ یوں ڈال محبت کی نظر اور

روغن کی ہو بارش تو بھڑکتے ہیں شرر اور

رکھ پاتا نہیں ٹھیک سے میں اپنی کوئی بات

ہو جائے نہ باتوں کا کہیں تجھ پہ اثر اور

مضبوط ہوئی جاتی ہے دیوار جھجک کی

کھٹّا ہوا جاتا ہے تعلّق کا ثمر اور

اب اچھّی کہاں لگتی ہیں تجھ کو مری باتیں

کیا عرض کروں تجھ سے میں بے خوف و خطر اور

ضد تیری بڑھاتی گئی ہر روز مسافت

ہوتی گئی پُر خار محبت کی ڈگر اور

تھک ہار کے گر جائے زمیں پر نہ کسی روز

الفت کے پرندے کو ملیں صبر کے پر اور

یوں ہی نہ کسی آن نکل جائے مری جان

اب مجھ سے مری جان نہ کر صَرفِ نظر اور

موسم کے ہر اک قحط سے دل بر سرِ پیکار

ہے آس کہ پھل دے گا محبت کا شجر اور

گِر سکتی نہیں ہم سے جو نفرت کی یہ دیوار

چُپ چاپ بناتے رہیں دیوار میں در اور

لگتا تھا تری دید سے بجھ جائے گی ہر پیاس

بے کل ہوا دل اور تو بے تاب نظر اور

ظالم پہ عیاں کر کے مری روح کی تکلیف

"کیوں مجھ کو ڈبوتے ہیں مرے دیدۂ تر اور”

کھو دینے کا یہ خوف ہی راغبؔ ہے محبت

ہوتے گئے نزدیک تو بڑھتا گیا ڈر اور

مزید دکھائیں

افتخار راغب

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پذیر، علمبردارِ توازنِ لفظ و معنی ، بدرِ آسمانِ شعر و سخنِ قطر اور افتخارِ بزمِ اردو قطر جناب افتخار راغبؔ کا تعلق ہندوستان کے صوبہ بہار سے ہے۔ پیشے سے سول انجنئیر ہیں اور 1998 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے بی ٹیک کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد مارچ 1999 سے قطر میں ملازمت کے سلسلے میں مقیم ہیں۔ آپ کے چار شعری مجموعۂ کلام، ’لفظوں میں احساس‘ ، ’خیال چہرہ‘ ، ’غزل درخت‘ اور 'یعنی تو' منظرِ عام پر آکر مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔ غزلوں کا پانچواں مجموعہ اور مزاحیہ شاعری کا پہلا مجموعہ زیرِ ترتیب ہیں۔ آپ کی شاعری کی اینڈرائڈ ایپ بھی بن چکی ہے جسے Google Play Store میں Iftekhar Raghib - Urdu Poetry لکھ کر تلاش کرکے انسٹال کیا جا سکتا ہے اس میں چاروں مجموعہ غزلیات دیدہ زیب انداز میں موجود ہیں. افتخار راغبؔ کا شمار قطر کے فعال ترین ادبی شخصیات میں ہوتا ہے۔ آپ قطر کی قدیم ترین اردو تنظیم بزمِ اردو قطر کے 2010 سے جنرل سکریٹری ہیں اور دیگر ادبی تنظیموں میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ آپ اپنے پختہ کلام کے حوالے سے پوری اردو دنیا میں نئی نسل کے شعراء میں منفرد شناخت رکھتے ہیں۔

متعلقہ

Close