غزل

ہے انتشار یہاں اور ثبات آئندہ؟

ادریس آزاد

ہے انتشار یہاں اور ثبات آئندہ؟
عذاب "حال” پہ اُترا، نجات "آئندہ؟

۔

تمہارے بعد ستاروں نے مجھ سے وعدہ لیا
ہمارے ساتھ گزاروگے رات آئندہ

۔

یہ لوگ شورش ِ کشمیر کھول دیتے ہیں
تُو اب کسی سے نہ کر کوئی بات آئندہ

۔

وہ پیاس ہائے !کہ دریا پکار اُٹھا تھا

جہان بھر میں بہے گا فرات آئندہ

۔

اُسے کہو کہ تنفس سےماورا۶ ہوجائے
لہو سے جان چھڑالے حیات آئندہ

۔

میں اپنی آپ ہی تقدیر ٹھیک کرلونگا
وہ بازی گر! جو دکھائے نہ ہاتھ آئندہ

۔

تو یوں کریں گے کہ بازی الٹ کے رکھ دینگے
نہ دے سکیں گے جو شاطر کو مات آئندہ

۔

اے رازدار! کہیں کا نہیں رہونگا میں
تمہارے منہ سے جو نکلی یہ بات آئندہ!

۔

تُو یوں خفا نہ ہو، بس اب میں یاد رکھونگا
تمہارے پیار کے چودہ نکات آئندہ

۔

کفن کو شملہ۶ الفت بنا کے باندھ لیا
ہماری آج سے اونچی ہے ذات آئندہ

۔

اُسے کہو! مجھے بچوں سے شرم آتی ہے
وہ میرے گھر میں نہ لائے زکات آئندہ

۔

وہ "عُمرہ باز” تبرک میں سنگ لایا ہے
عرب سے آئیں گے لات و منات آئندہ

۔

میں اپنی طاقتِ وجداں سے اُس کو ڈھونڈونگا
خود اپنے آپ نہ بولیں صفات آئندہ

۔

تمہاری قید سے آزادؔ ہوگئے ہم بھی
یہ سُوت چھوڑ کے پہنیں گے پات آئندہ

مزید دکھائیں

ادریس آزاد

ادریس آزاد (7 اگست 1969ء) پاکستان کے معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اورکالم نگار ہیں۔ انہوں نے فکشن، صحافت، تنقید، شاعری، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا اصل نام ادریس احمد ہے تاہم اپنے قلمی نام ادریس آزاد سے جانے جاتے ہیں۔ بطور شاعر انہوں نے بے شمار نظمیں تحریر کی ہیں جو روایتی مذہبی شدت پسندی کے برعکس روشن خیالی کی غماز ہیں۔ ان کی مشہور کتب ’عورت، ابلیس اور خدا، ’اسلام مغرب کے کٹہرے میں‘ اور ’تصوف، سائنس اور اقبالؒ‘ ان کے مسلم نشاۃ ثانیہ کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ روزنامہ دن، ’آزادانہ‘ کے عنوان سے ان کے کالم شائع کرتا ہے ۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی ملاحظہ فرمائیں

Close
Close