غزل

ہے زیرِ کفِ پَا یہ سموات کی منزل

شاہدؔکمال

ہے زیرِ کفِ پَا یہ سموات کی منزل
اب دیکھ مرے کشف و کرامات کی منزل

اک رقص کا عالم ہے مرے خانہ جاں میں
وَا ہونے کو ہے مجھ پہ مرے ذات کی منزل

کیا رکھا ہے اس کوچہ ٔ بے صوت و صدا میں
اب ختم ہوئی حرف و حکایات کی منزل

وہ شام کے ہاتھوں سے گرا جاتا ہے سورج
پیروں سے الجھتی ہے مرے ، رات کی منزل

لفظوں سے الجھتے ہیں مری فکر کے طائر
کھلتی ہے کہاں رمز وکنایات کی منزل

اوروں نے اڑیا ہے مرے طرز سخن کو
اب ختم کہاں پہ ہو مری بات کی منزل

کیو ں دیکھ کے حیرت میں ہو شاہدؔ کو ابھی سے
دیکھی ہے کہاں تم نے کمالات کی منزل

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close