یادِ رفتگاں: بیادِ شاعرِ مشرق حضرت علامہ اقبالؔ 

احمد علی برقیؔ اعظمی

گزرے ہوئے یوں اُن کو ہوئے کتنے مہ و سال
ہر سمت نظر آتے ہیں اقبالؔ ہی اقبالؔ

کب تک رہے یہ ملتِ مظلوم زبوں حال
اب تک نہ ہوا پیدا کوئی دوسرا اقبالؔ

پیتے رہے وہ خونِ جگر اپنا ہمیشہ
ہر وقت انھیں فکر تھی ملت رہے خوشحال

وہ درسِ عمل دیتے تھے اشعار سے اپنے
اُن سا نہ ہوا اہلِ نظر کوئی بھی تاحال

ماضی بھی پسِ پُشت تھا،فردا پہ نظر تھی
تھا ذہن میں اُن کے نہ رہے کوئی بھی بدحال

سب راہِ ترقی پہ رواں اور دواں ہیں
زردار جو ہیں اُن کو ہے بس فکرِ زرو مال

کرتا ہی نہیں درد کا کوئی بھی مداوا
ہے عہدِ رواں اپنے لئے جان کا جنجال

اسلاف سے ہے نسلِ جواں اپنے گریزاں
برقیؔ ہے یہی وجہہ کہ ہم آج ہیں پامال

⋆ احمد علی برقی اعظمی

احمد علی برقی اعظمی
ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے