غزل

یاد رفتگاں: بیاد پروین شاکر

احمد علی برقی اعظمی

ہے یہاں آسودۂ خاک ایک ایسی شاعرہ

شہرۂ آفاق تھا جس کے سخن کا دایرہ

مرجع اہل نظر ہے اس کا آفاقی پیام

ناگہانی موت جس کی ہے ادب کا سانحہ

نام تھا پروین شاکر تھی جو ہر سو ضوفگن

منقطع ایسا ہوا وہ روشنی کا سلسلہ

اردو دنیا آج بھی ہے اس کے غم میں سوگوار

تلخ تھا جس کے لئے یہ  زندگی کا ذایقہ

مظہرِ سوزِ دروں ہے اس کا معیاری کلام

جذبۂ نسواں کا جس کی شاعری ہے تجزیہ

فکر و فن کا آج بھی ہوتا جہاں اس کے اسیر

پیش آتا گر نہ اس کو ناگہانی حادثہ

مِل گئے برقی عزایم ساتھ اس کے خاک میں

 کررہی تھی ندرتِ فکر و نظر کا تجزبہ

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Back to top button
Close