یوں تو شمار اس کا مرے بھائیوں میں تھا

عرفان وحید

یوں تو شمار اس کا مرے بھائیوں میں تھا

میں تھا لہو لہو وہ تماشائیوں میں تھا

چہرے سے میں نے غم کی لکیریں مٹا تو دیں

لیکن جو کرب روح کی گہرائیوں میں تھا

وہ حوصلہ کہ پھیردے دو جو آندھیوں کے رخ

وہ حوصلہ ابھی مری پسپائیوں میں تھا

دیتا ہے روز اک نیا الزام آج کل

پہلے وہ شخص بھی مرے شیدائیوں میں تھا

کہتے ہیں ایک میں نہ تھا بدنام شہر میں

چرچا ترے بھی نام کا رسوائیوں میں تھا

عرفاں وہ کم نصیب کہ تھا جانِ انجمن

یاروں کے بیچ رہ کے بھی تنہائیوں میں تھا

⋆ عرفان وحید

عرفان وحید

عرفان وحید کا تعلق پنجاب کے شہر مالیر کوٹلہ سے ہے۔ آپ پیشے سے انجینیر ہیں۔ عرفان نے اردو اور انگریزی میں قریباً ۲۰ کتابیں ترجمہ کی ہیں۔ آپ انگریزی ماہنامے ‘دی کمپینیئن’ اور انگریزی پورٹل ‘ہیڈلائنز انڈیا’ کے ایڈیٹر بھی رہ چکے ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

بچوں کے خلاف جرائم: ایک لمحۂ فکریہ

جرائم کے ریکارڈ بولتے ہیں کہ روزانہ کتنی ہی زینب وحشی درندوں کی ہوس کا شکار ہوجاتی ہیں۔ یہ انسانیت کا پست ترین مقام ہے۔ زینب کا مجرم اب بھی قانون کی گرفت میں نہیں آسکا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اسے بھرے پرے بازار سے اغوا کیا گیا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ عام لوگ مجرم کو پکڑنے میں آگے نہیں آتے ہیں۔ اس صورت حال پر ایک عبر ت انگیز واقعہ پیش کرتا ہوں جسے فیس بک پر نعیم اکرام نے نقل کیا ہے۔ اگرچہ یہ موضوع سے راست متعلق نہیں ہے تاہم ایک اہم نکتے کی طرف اشارہ ضرور کرتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے