غزل

یوں زندگی کا ساتھ نبھائے ہوئے تو ہیں

پاؤں کی بیڑیوں کو بجائے ہوئے تو ہیں

جمالؔ کاکوی

یوں زندگی کا ساتھ نبھائے ہوئے تو ہیں

پاؤں کی بیڑیوں کو بجائے ہوئے تو ہیں

پنچر ہوئ تو تھی ذرا رکنا پڑا مگر

منزل پہ چل کہ دور سے آئے ہوئے تو ہیں

سورج نظر نہ آئے تو سورج کا کیا قصور

دنیا پہ اپنا رنگ جمائے ہوئے تو ہیں

ان سے دلِ ہزیں بھی تقاضہ نہ کرسکا

جھوٹی قسم تھی دل کو بتائے ہوئے تو ہیں

ویسا خلوص ویسی وفا اب کہاں سے ہو

آخر ہوا شہر کی وہ کھائے ہوئے تو ہیں

بے دست پا ہوئے مگر خدار میرے دوست

ظالم کے آگے سر کو اٹھائے ہوئے تو ہیں

ہم کو رقیب کہتے ہیں ہڈی کباب میں

ویسے ہم ان کے خاص بلائے ہوئے تو ہیں

لگتاہے چارچاند بھی ان کے وقار میں

تصویر میری گھر میں سجائے ہوئے تو ہیں

اغیار ہم سفیروں کو اپنا سمجھ کہ وہ

نادان اپنی جان گنوائے ہوئے تو ہیں

یہ خوف ہے کہ وقت پہ اک دوست بھی نہ ہو

دشمن کو اپنا دوست بنائے ہوئے تو ہیں

ہے خون میرے دل کا یا رنگ حنائ ہے

دنیا سے ایک راز چھپائے ہوئے تو ہیں

من کی تو خیر چھوڑیے تن ہوسکا نہ پاک

عزت مآب گنگا نہائے ہوئے تو ہیں

کرسی ملے تو کتنے گھروں کو اجاڑ دیں

جتنا کو سبز دکھائے ہوئے تو ہیں

رنگون سے صدائیں یہ آتی ہیں آج کل

آخر کسی کہ ہم بھی مٹائے ہوئے تو ہیں

ان کی سماعتوں کا ہوتا ہے کیا اثر

ہم اپنی دھن میں بین بجائے ہوئے تو ہیں

ہر شام اپنے گھر میں بھی شمع جلا سکیں

اتنا جمالؔ ہم بھی کمائے ہوئے تو ہیں

مزید دکھائیں

جمال کاکویؔ

کاکو ہائوں پٹنہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close