غزل

یہ جو زندگی کی کتاب ہے

راجیش ریڈی

یہ جو زندگی کی کتاب ہے
یہ کتاب بھی کیا کتاب ہے
کہیں اک حسین خؤاب ہے
کہیں جان لیوا عذاب ہے
کبھی کھولیا، کبھی پالیا
کبھی رولیا کبھی گالیا
کہیں رحمتوں کی ہیں بارشیں
کہیں تشنگی بے حساب ہے
کہیں چھائوں ہے کہیں دھوپ ہے
کہیں اور ہی کوئی روپ ہے
کہیں چھین لیتی ہے ہر خؤشی
کہیں مہربان بے حساب ہے
یہ جو زندگی کی کتاب ہے
یہ کتاب بھی کیا کتاب ہے

 

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close