غزل

یہ جہاں آسماں جھکا ہوا ہے

محبوب دلکش اعظمی

یہ جہاں آسماں   جھکا ہوا ہے
کیا زمیں میں وہیں گڑا ہوا ہے

معجزہ یوں  بھی رونما ہوا ہے
پیدا  دریا  میں  راستہ  ہوا ہے

آرہی ہے   کراہ  نے  کی   صدا
کوئی   ملبہ    تلے   دبا ہوا ہے

پی رہا ہے وہ پھونک پھونک کے چھاچھ
کیا کرے دودھ کا جلا  ہوا ہے

اس کو ہر گز مٹا   نہیں سکتا
تیری قسمت میں جو لکھا ہوا ہے

آرہی ہے مدد مدد کی صدا
کوئی شاید کہیں پھنسا  ہوا ہے

میں نے سمجھا جسے بھلا دلکش
میرے حق میں وہی برا ہوا ہے

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close