یہ دانۂ ہوس تمھیں حرام کیوں نہیں رہا

عرفان وحید

یہ دانۂ ہوس تمھیں حرام کیوں نہیں رہا

اڑان کا وہ شوق زیرِ دام کیوں نہیں رہا

مسافتوں کا پھر وہ اہتمام کیوں نہیں رہا

سفر درونِ ذات بے قیام کیوں نہیں رہا

بکھر گئی ہے شب تو تیرگی کا راج کیوں نہیں

جو بام پر تھا وہ مہِ تمام کیوں نہیں رہا

ہمارے قتل پر اصولِ قتل گہ کا کچھ لحاظ!

صلیب و دار کا بھی اہتمام کیوں نہیں رہا

بھلا یہ کیسے مان لیں کہ دل کو صاف کرلیا

جو صلح ہو گئی تو پھر کلام کیوں نہیں رہا

جو شعبدے تھے تیرے پیر ِوقت اُن کا کیا ہوا

عطائے حسن و عشق پر دوام کیوں نہیں رہا

جو پیروۓ ہواۓ نفس و بندۂ ہوس ہوا

اسے یہ غم وہ وقت کا امام کیوں نہیں رہا

دلوں کو جیتنے کی جو کرامتیں تھیں کیا ہوئیں

نظر نظر جو فیض تھا وہ عام کیوں نہیں رہا

⋆ عرفان وحید

عرفان وحید

عرفان وحید کا تعلق پنجاب کے شہر مالیر کوٹلہ سے ہے۔ آپ پیشے سے انجینیر ہیں۔ عرفان نے اردو اور انگریزی میں قریباً ۲۰ کتابیں ترجمہ کی ہیں۔ آپ انگریزی ماہنامے ‘دی کمپینیئن’ اور انگریزی پورٹل ‘ہیڈلائنز انڈیا’ کے ایڈیٹر بھی رہ چکے ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

بچوں کے خلاف جرائم: ایک لمحۂ فکریہ

جرائم کے ریکارڈ بولتے ہیں کہ روزانہ کتنی ہی زینب وحشی درندوں کی ہوس کا شکار ہوجاتی ہیں۔ یہ انسانیت کا پست ترین مقام ہے۔ زینب کا مجرم اب بھی قانون کی گرفت میں نہیں آسکا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اسے بھرے پرے بازار سے اغوا کیا گیا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ عام لوگ مجرم کو پکڑنے میں آگے نہیں آتے ہیں۔ اس صورت حال پر ایک عبر ت انگیز واقعہ پیش کرتا ہوں جسے فیس بک پر نعیم اکرام نے نقل کیا ہے۔ اگرچہ یہ موضوع سے راست متعلق نہیں ہے تاہم ایک اہم نکتے کی طرف اشارہ ضرور کرتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے