غزل

 یہ عبادت بھی کیا عبادت ہے

احمد نثارؔ

جو بھی دل صاحبِ صداقت ہے

اْس سے ملنا بھی اِک عبادت ہے

۔

مخملی فرش، مرمری مسجد

یہ عبادت بھی کیا عبادت ہے!

۔

ہر سیاست کے پیچھے مولانا

یہ عبادت ہے یا سیاست ہے؟

۔

میں تو محروم میرے حق سے ہوں

کب خوشامد کی مجھ کو عادت ہے!

۔

میرا سچ بولنا گراں ٹھہرا

کیا صداقت یہاں بغاوت ہے؟

۔

دل یہ ایمان سے منور ہے

یہ خدا کی مِرے عنایت ہے

۔

کیا ہوا آج کل کے انساں کو

شرم ہے اور نہ ندامت ہے

۔

میری خاموشیوں پہ مت جانا

خامشی بھی تو اک بغاوت ہے

۔

سْن! یہ رسوائیاں جہاں بھر کی

تیرے اعمال کی کرامت ہے

۔

بے زبانوں کی جان لینا ہی

آج کل جاہلوں کی عادت ہے

۔

قتلِ معصوم کر رہا ہے مگر

سوچتا ہے کہ یہ شجاعت ہے

۔

اب کہیں جا کے ہوش آیا ہے

عشق کرنا بھی اک حماقت ہے

۔

ہم نے اجداد سے سنا ہے نثارؔ

بے عمل علم ہی جہالت ہے

مزید دکھائیں

احمد نثار

نام سید نثار احمد، قلمی نام احمد نثار۔ جائے پیدائش شہر مدنپلی ضلع چتور آندھرا پردیش۔ درس و تدریس سے رضاکار موظف۔ اردو ادب، شاعری، تحقیق، ٹرائننگ اہم دلچسپیاں۔ انگریزی، ہندی تیلگو اور اردو زبانوں میں مہارت۔ کمیونکیشن اسکلز ایکسپرٹ۔ شعری مجموعہ روحِ کائنات، کہکشانِ عقیدت (نعتیہ مجموعہ) سکوتِ شام (زیرِ ترتیب)، تصنیف مواصلاتی مہارات برائے بی یو یم یس طلباء (Communication Skills for BUMS Students) ۔ ویکی پیڈین و ویکی میڈین۔ فی الحال رہائش پونے/ممبئی، مہاراشٹر۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی ملاحظہ فرمائیں

Close
Close