غزل

یہ قصہ بھی پرانا ہو گیا ہے

فوزیہ رباب

یہ قصہ بھی پرانا ہو گیا ہے

تمہیں دیکھے زمانہ ہو گیا ہے

تمہاری ذات کی جدت میں آ کر

مرا چہرا پرانا ہو گیا ہے

بچھڑنا ہے تو جاؤ چھوڑ جاؤ

اگر ملنا ملانا ہو گیا ہے!

ابھی محجوب ہے وہ ماہ رُو پر

یہ دل جس پر دِوانہ ہو گیا ہے

میں جانے کس صدی میں رہ گئی ہوں

مجھے بیتے زمانہ ہو گیا ہے

تری آنکھوں کے موسم کہہ رہے ہیں

سماں دل کا سہانہ ہو گیا ہے

سو اب اس زندگی میں کیا بچا ہے

تجھے پانا، گنوانا، ہو گیا ہے!

تجھے میں نے بسا رکھا ہے اس میں

مرا دل صوفیانہ ہو گیا ہے

وہ ہر جائی ہے لیکن پھر بھی اس کا

مرے دل میں ٹھکانا ہو گیا ہے

تمہیں سوچا تمہیں ہی لکھ دیا ہے

یونہی پڑھنا پڑھانا ہو گیا ہے

تو کیا سنجیدگی سے پیش آؤں؟

تو کیا ہنسنا ہنسانا ہو گیا ہے؟

خدایا خیر ہو دل کی گلی میں

کسی کا آنا جانا ہو گیا ہے

تو کیا اب سرخرو سمجھوں میں خود کو؟

ترا گر آزمانا ہو گیا ہے!

نئی آنکھوں سے تجھ کو ڈھونڈنے سے

مرا آنسو پرانا ہو گیا ہے

نہیں تم پر کہا جو شعر اس میں

تخیل عامیانہ ہو گیا ہے

اکیلے عمر ساری کٹ رہی ہے

تمہارے بن، زمانہ ہو گیا ہے

تمہیں اب یاد کرنا ہے لگن سے

مکمل بھول جانا ہو گیا ہے

میں کچھ دن دور کیا تم سے رہی ہوں

رویہ دشمنانہ ہو گیا ہے

ڈھلی ہے شام اب تو لوٹ آؤ

مرا گھر بھی سجانا ہو گیا ہے

پلٹ آؤ میں پھر سے ہار مانوں

تمہیں جیتے زمانہ ہو گیا ہے

ابھی چہرہ نیا لایا کہیں سے

ابھی صدیوں پرانا ہو گیا ہے

تری باتیں سبھی سے کرتے کرتے

یہ لہجہ دلبرانہ ہو گیا ہے

میں اس کہ ذات میں یوں کھو گئی ہوں

تعلق عارفانہ ہو گیا ہے

مری سانسیں ابھی تک چل رہی ہیں

خطا تجھ سے نشانہ ہو گیا ہے

رباب اب روٹھتے اور پھر مناتے

اسے بھی اک زمانہ ہو گیا ہے

مزید دکھائیں

فوزیہ ربابؔ

نسوانی جذبات و احساسات کی پُر تاثیر عکاسی کرنے والی اور شاعری و نثر نگاری میں یکساں درک رکھنے والی منفرد لب و لہجہ کی شہزادیِ سخن محترمہ فوزیہ ربابؔ کا تعلق ہندوستان کے صوبہ گجرات کے دار الحکومت احمد آباد کے ایک معروف علمی و دینی گھرانے سے ہے. بچن ہی سے آپ کو شعر و ادب کے مطالعے کا شوق رہا ہے. آپ نے گجرات یونیورسی ٹی سے ایم اے اور بی ایڈ کی ڈگڑی حاصل کرنے کے بعد ماس کمیونیکیشن اینڈ جرنلجزم کی ڈگری بھی حاصل کی ہے. طالب علمی کے زمانے ہی سے شعر گوئی کی طرف راغب ہیں. شادی کے بعد 2010 سے گوا میں مقیم ہیں اور وہیں سے عالمی ادب میں اپنی منفرد اور معتبر شناخت قائم کرنے میں کامیابی حاصل کر چکی ہیں. سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے مختلف ذرائع سے آپ کا کلام پوری اردو دنیا میں روز بروز مقبولیت حاصل کر رہا ہے. آپ متعدد ادبی تنظیموں اور رسالوں وغیرہ سے وابستہ ہیں. اتنی کم عمری ہی میں کئی ایوارڈ و اعزاز سے نوازی جا چکی ہیں نیز پاکستان میں بھی آپ کے اعزاز میں مشاعرہ منعقد ہوچکا ہے. ہندوستان کے متعدد معیاری عالمی و کل ہند مشاعروں میں با وقار و کامیاب شرکت کر چکی ہیں. آپ کی شاعری کا پہلا مجموعہ "آنکھوں کے اُس پار" اکتوبر 2017 میں عرشیہ پبلیکیشنز دہلی سے شائع ہو کر مقبولیت حاصل کر رہا ہے اور دوسرا مجموعہ زیرِ ترتیب ہے. آپ کی شاعری کی انتہائی دیدہ زیب اینڈرائڈ ایپ بھی تیار ہو چکی ہے جسے Play Store میں Foziya Rabab Poetry سے تلاش کر کے موبائیل میں انسٹال کر کے پڑھا جا سکتا ہے. آپ کی غزلیں جہاں احساسات و جذبات و دلکشی سے لبریز ہوتی ہیں وہیں آپ کی نظموں میں بلا کی روانی کے ساتھ زبان و بیان کی چاشنی اپنی الگ دل ربائی کی خوشبو لٹاتی ہے جن کو پڑھ کر قاری افکار و تخیل کی حسیں وادی میں گم سا ہو جاتا ہے.

متعلقہ

Back to top button
Close