غزل

یہ کر رہا ہے جو کافر تباہ سناٹہ

میں سچ بتاؤ ہے وجہ گناہ سناٹہ

جمال کاکوی

یہ کر رہا ہے جو کافر تباہ سناٹہ

میں سچ بتاؤ ہے وجہ گناہ سناٹہ

کہیں سے کوئی صدا حق کی یاں نہیں اٹھتی

خدا بچاۓ یہ منظر سیاہ سناٹہ

لباس فاخرہ اپنے ہوئ ہے تنہائ

سجاۓ بیٹھا ہوں سر پہ  کلاہ سناٹہ

سکوت چھایا ہوا تھا تمام بستے میں

ہجوم خلق تھا لیکن گواہ سناٹہ

پڑی تھی لاش جہاں وہ تھی اپنی آبادی

زبان چپ تھی فقط آہ آہ سناٹہ

کہیں سے کوئ نہ آیا ہوئ وہ چیخ بھی گم

ہوا رفیق بس حد نگاہ سناٹہ

پھرے ہے صہرا میں جیسے کہ کوئ سودائ

جہاں سے کچھ نہیں، ہے رسم وراہ سناٹہ

  جمالؔ کچھ نہیں دیکھا سواۓ حیرانی

زمیں کا شور خلا کا اتھاہ سناٹہ

مزید دکھائیں

جمال کاکویؔ

کاکو ہائوں پٹنہ

متعلقہ

Back to top button
Close