غزل

یہ کیسی پڑ گئی مشکل مقابل

عقب میں عقل ہے اور دل مقابل

عبدالکریم شاد

یہ کیسی پڑ گئی مشکل مقابل

عقب میں عقل ہے اور دل مقابل

بھلا دیکھے تو کیا بسمل مقابل

سدا رہتا ہے اک قاتل مقابل

ہوئے ہم یوں سرِ محفل مقابل

ہوں جیسے بحر کے ساحل مقابل

کبھی ہو جب کوئی عاقل مقابل

سمجھ لے سنگ ہے اے دل! مقابل

بدل سکتے نہیں ہم رنگ اپنا

"ہمیشہ یہ رہی مشکل مقابل”

وہ آئینے سے کہتے ہیں بگڑ کر

نہ آنا پھر کبھی جاہل! مقابل

ہزاروں تیر برسائیں وہ نظریں

رہے گا پھر بھی میرا دل مقابل

ملا ہوں کتنے انسانوں سے لیکن

نہ آیا ایک بھی کامل مقابل

نگاہیں منتظر رہتی ہیں ہر دم

کوئی ہو دید کے قابل مقابل

یہی ہے امتحانِ شوق اے شاد!

سفر مشکل ہے اور منزل مقابل

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close