غزل

یہ ہم جو دل میں وفا کا مکاں بناتے ہیں

"ہوائے غم کے لیے کھڑکیاں بناتے ہیں"

عبدالکریم شاد

یہ ہم جو دل میں وفا کا مکاں بناتے ہیں

"ہوائے غم کے لیے کھڑکیاں بناتے ہیں”

وہ ابرو تان کے جب بھی کماں بناتے ہیں

مرے جگر پہ برابر نشاں بناتے ہیں

سنوارتے ہیں وہ زلفیں تو چاند خائف ہے

وہ چھت پہ رات میں کیوں بیڑیاں بناتے ہیں

خرامِ ناز، تبسّم، نگاہِ برق، حیا

یہ جلوے حسن کا اک کارواں بناتے ہیں

اب ان کی باتوں پہ ہونے لگا مجھے بھی شک

ہر اک طرح سے وہ طرزِ بیاں بناتے ہیں

یہ عشق والے کرامت بھی کم نہیں کرتے

چھڑک کے آب, جگر پر دھواں بناتے ہیں

بہار روٹھ کے جاتے ہوئے یہ بولی تھی

خزاں پرست کو ہم باغ باں بناتے ہیں

گو آسمان میں پرواز ہو تری اے شاد!

پرندے شاخ پہ ہی آشیاں بناتے ہیں

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close