غزل

ﺩﺭﺩ  پھیلا دیا ﮨﮯ کاغذ پر

ﺧﻂ ہمارے کبھی ﭘﮍھا کرﻧﺎ

دستگیر ﻧﻮﺍﺯ

ﺍﯾﺍ نہیں ﻭﻓﺎ ﮐﺭﻧﺎﺍﻥ ﮐﻭ

ﮨﻡ نے سیکھا نہیں ﺟﻔﺎ ﮐﺭﻧﺎ

..

ﺩﺭﺩ  پھیلا دیا ﮨﮯ کاغذ پر

ﺧﻂ ہمارے کبھی ﭘﮍھا کرﻧﺎ

..

ﮨﻭﮔﯽ ﺗﺠﺪﯾﺩ اپنی ﺍﻟﻔﺖ  ﮐﯽ

آتے جاتے  ہوئے ﻣﻼ  ﮐﺭﻧﺎ

..

ﭨﻭﭦ ﮐﺭ ﭼﺍﮨﺗﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﮨﻡ ﮐﻭ

ﺯﯾﺏ ﺩﯾﺗﺎ نہیں ﺧﻔﺎ  ﮐﺭ ﻧﺎ

..

دیکھ ﺭﺏ ﮐﯽ ﺭﺿﺎ اسی میں ﮨﮯ

سیکھ لے شکریہ  ﺍﺩﺍ  ﮐﺭﻧﺎ

..

بھول ﺗﻢ سے ﺫﺭﺍ ہوئی ﮨﮯ ﻧﻮﺍﺯ

ﭘﮭﺭ نہ ﺍیسی کبھی ﺧﻄﺎ ﮐﺭﻧﺎ

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close