ناز بے جا میں اٹھا سکتا نہیں

منصور خوشتر

ناز بے جا میں اٹھا سکتا نہیں

ریت ہی پر گھر بنا سکتا نہیں

بے رخی جیسی دکھائی آپ نے

چاہ کر بھی میں دکھا سکتا نہیں

میں نے مہندی والے تیرے ہاتھ سے

کتنا کیا پایا، بھُلا سکتا نہیں

میری قربت سے مٹا جو فاصلہ

وہ بیاں میں اپنے آسکتا نہیں

دائرے میں ہوں گھرا تہذیب کے

اس کے باہر میں تو جا سکتانہیں

اپنا معیارِ شرافت بھی ہے ایک

کچھ بھی ہو ، اس کو گنواسکتا نہیں

اس روش پر ناز ہے خوشتر مجھے

 میں کسی کا دل دُکھا سکتا نہیں

⋆ منصور خوشتر

منصور خوشتر

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

المنصو ٹرسٹ کے زیر اہتمام کتاب ‘چاندنی دھوپ کی’ کا رسم اجراء

چاندنی دھوپ کی پروفیسر ایم کمال الدین کی کتاب کے سرسری مطالعے سے ان کی علمی لیاقت اور زبان وبیان کا اندازہ ہوتا ہے اور ا س بات کا انکشاف ہوتا ہے کہ اتنا قیمتی ادیب و شاعر دربھنگہ شہر میں جیتا اور بستا ہے پتہ نہیں انہوں نے گوشہ نشینی کیوں اختیار کرلی ہے، کاش کہ یہ یہاں کی ادبی محفلوں میں پورے طور پر شامل ہوتے رہتے اور ان کی علمی ادبی صلاحیتوں سے شائقین ادب استفادہ کرتے۔