غزل

غزل

ہجوم  ِشب کی میں پرچھائیوں سے ڈرتا رہا

خود اپنے گھر ہی میں تنہائیوں سے ڈرتا رہا

اگلتے  دیکھا  جو  دریا  کو  نیکیاں  اپنی

تو ساری عمر میں اچھائیوں سے ڈرتا رہا

یہ کذب و کفر کی دنیا تھی یا کوئی مقتل

کہ جس میں آدمی سچائیوں سے ڈرتا رہا

مٹا ئےکب ہے مٹا  جھگڑا جائیدادوں کا

اثاثہ بھائی تھا جو بھائیوں سے ڈرتا رہا

سرورو کیف کی سرمستیاں ارے توبہ!

خدا کا بندہ تھا شہنائیوں  سے ڈرتا رہا

کہیں وہ زخم کوئی پھر نیا نہ دیں صابرؔ

یہی میں سوچ کے پروا ئیوں سے ڈرتا رہا

صابر جہان آبادی

R-274,1s Floor, Street No. 12, Ramesh Park,

Laxmi Nagar, Delhi-110092, Mob-09810837485

مزید دکھائیں
Back to top button
Close