غزل

شمعِ محبت آپ جلا کر تو دیکھئے

دشمن کو اپنے دل سے لگا کر تو دیکھئے

مجاہد ہادؔی ایلولوی

شمعِ محبت آپ جلا کر تو دیکھئے
دشمن کو اپنے دل سے لگا کر تو دیکھئے

ہو جائے گا مرا ہوا خچر بھی زندہ پھر
ان کی طرح نماز بنا کر تو دیکھئے

باطل جھکے گا آپ کے قدموں پہ ایک دن
کشتی کو پہلے آپ جلا کر تو دیکھئے

پلکیں بچھا کے آپ کا سواگت کروں گا میں
میرے غریب خانے پہ آ کر تو دیکھئے

ہر برگِ گل پہ لکھی ہے میری ہی داستاں
تاریخ اس چمن کی اٹھا کر تو دیکھئے

آئیں گے جاں ہتھیلی پہ رکھ کر مدد کو ہم
اک بار ہم کو آپ بلا کر تو دیکھئے

راہِ نجات آج بھی مل جائے آپ کو
"سویا ہوا نصیب جگا کر تو دیکھئے”

ہادؔی محبتوں کا سماں آئے گا نظر
دیوار نفرتوں کی گرا کر تو دیکھئے

مزید دکھائیں

مجاہد ہادؔی ایلولوی

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پزیر شعر و سخن کا نیا ابھرتا ستارہ جناب مجاہد ہادؔی ایلولوی صاحب کا تعلق ہندوستان کے صوبہ گجرات سے ہیں, آپ پیشے سے عالمِ دین ہیں آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی وطن ایلول میں حاصل کی اس کے بعد مزید عربی اردو اور فارسی کی تعلیم کے حصول کے لئے اپنے علاقہ کا معروف ادارہ ( جامعہ اسلامیہ امداد العلوم وڈالی) کا رخ کیا اور وہی سے 2016 میں سند فضیلت حاصل کی اور اس کے بعد سے اب تک احمدآباد کے قریب شہر بوٹاد میں مقیم ہیں آپ کا تعلیق گجرات کے ضلع سابرکانٹھا کے ایک علمی خاندان سے ہیں آپ کے والد محترم کا اسمِ گرامی عمر ابن محمد پشوا ہیں وہ بھی پیشے سے عالمِ دین ہیں, آپ افق شعر و سخن کا ایک چمکتا ستارہ ہیں اور نئی نسل کے فعال ترین شعراء میں سے ایک ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close