غزل

بہت حسّاس ہونا بھی علامت بے حسی کی ہے

م ۔ سرور پنڈولوی

بہت حسّاس ہونا بھی علامت بے حسی کی ہے
ترے برباد ہونے میں ہر اک سازش اسی کی ہے

.

تمہاری حق نوائی پر ہر اک انگلی اٹھاتا تھا
قیامت اب ہے کیوں برپا جو حالت خامشی کی ہے

.

کبھی ہنستے ہوئے چہرے بہت مغموم ہوتے ہیں
کبھی آنسو نکل آنا نشانی بھی خوشی کی ہے

.

عدو کو بھول جاؤگے جو میرا حشر دیکھو گے
مری طرح بتاؤ تو جہاں میں دوستی کی ہے

.

ترے فکر سخن کی بس یہی معراج ہو”سرور”
غزل ایسی کوئی کہہ دے لگے جو’میر’ جی کی ہے

مزید دکھائیں

م سرور پنڈولوی

م، سرور پنڈولوی کا تعلق مدھو بنی، بہار سے ہے۔ درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ اب تک بہت سی غزلیں اخبار ات و رسائل میں شائع ہو چکی ہیں۔ ایک شعر ی مجمو عہ”جزیرہ خوابوں کا“ زیر ترتیب ہے، جلد منظر عام پر آ جاۓ گا۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close