حمد

حمدِ باری تعالیٰ

ایڈوکیٹ متین طالب

خالق ہے دوجہاں کا،  میرا  توُ  آسرا  ہے
تیری عطا سے مجھ کو، سارا جہاں ملا ہے

رنگین  یہ   نظارے،  یہ  آبشار  سارے
میدان  اور  جنگل،  یہ کوہسار  سارے
رہتے ہیں بن کے میرے خدمت گذار سارے
کچھ بھی نہیں ہے بس میں، میری بساط کیا ہے
تیری عطا سے مجھ کو، سارا جہاں ملا ہے

دی قوتِ سماعت ، انساں کو کان دے کر
پھر بولنا سکھایا منہ میں زبان دے   کر
چلنا اسے سکھایا پیروں میں جان دے کر
کیسا  حسین  پیکر   انسان  کو  دیا   ہے
تیری عطا سے مجھ کو، سارا جہاں ملا ہے

شداد  کی  بنائی  جنت  کہاں  رہی  ہے
فرعون کی خدائی بھی غرق  ہوگئ  ہے
سہراب اور رستم کی کچھ نہیں چلی ہے
فانی ہے سارا عالم  بس تجھ کو ہی بقا ہے
تیری  عطا سے مجھ کو، سارا جہاں ملا ہے

پتھریلی توُ زمیں پر کونپل نکالتا ہے
پتھر میں رزق دے کر کیڑوں کو پالتا ہے
مولود کے بھی منہ میں لقمے توُ ڈالتا ہے
رزقِ حلال دے دے طالب کی یہ دعا ہے
تیری عطا سے مجھ کو، سارا جہاں ملا ہے

مزید دکھائیں

ایڈوکیٹ متین طالب

مکمل نام : متین احمد خان غلام منظور خان قلمی نام: ایڈوکیٹ متین طالب تخلص: طالب تعلیم: ایم. اے.، بی. ایڈ، ایل. ایل. بی M. A., B. Ed. , L. L. B. مکمل نام متین احمد خان غلام منظور خان،قلمی نام ایڈوکیٹ متین طالبؔ، تخلص طالبؔ اورتعلیم ایم۔اے، بی۔ایڈ، ایل۔ایل۔بی ہے۔جائے پیدائش نیم گاؤں (تعلقہ ناندورہ بلڈانہ) ہے۔ طبیعت شاعری کی طرف مائل ہوئی تو عزیزؔ شیگانوی کے شاگرد ہوئے۔ شاعری کی ابتداء اگست 2016 سے کی اور غزل کو سب سے عزیز رکھتے ہیں۔ ان کی سب سے پہلی تخلیق جو شائع ہوئی وہ بھی ایک غزل ہی ہے جو 18 فروری 2018 کو پونہ سے شائع ہونے والا ایک ہندی اخبار ’’آج کا آنند‘‘ میں شائع ہوئی تھی۔ ’’متین‘‘ نام کی طرح ان کے مزاج میں مستقل مزاجی ہے۔ اور ’’ احمد‘‘ اس لفظ کی برکتوں نے طبیعت میں مزید نکھار پیدا کردیا ہے۔ عزیزؔ شیگانوی نے اپنے مشفقانہ انداز سے انھیں شاعری کے پیچ وخم سے روشناس کرایا۔ انھوں نے پہلے استادوں کے کلام کا خوب مطالعہ کیا۔ پھر اپنا کلام لکھ کر عزیزؔ شیگانوی کو بتاتے رہے۔ اور اصلاح ِ سخن کرتے رہے۔ عزیزؔ شیگانوی نے ہی انھیں طالبؔ تخلص عطا کیا۔ اس کے بعد ان کی ملاقات ناندورہ کے ایک بہترین شاعر احمد کاشفؔ سے ہوئی۔ احمد کاشفؔ سے انھوں نے علمِ عروض کے ساتھ ساتھ یہ بھی سیکھا کہ ایک ذراسے لفظ کی ترمیم سے شعر کی خامی کو دور کرکے کس طرح خوبی پیدا کی جا تی ہے۔ اس طرح ان کا کلام سنورتا چلا گیا۔ اور جذبات کا ایک سیلاب جو دل کے نہاں خانوں میں موجزن تھا۔ وہ اشعار کی شکل میں ذہن کے پردوں سے قلم کے ذریعے کاغذ پر نمودار ہونے لگا۔ وہ ایک حساس دل رکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں احساسات کی جھلکیاں جابجا نظر آتی ہیں۔ جہاں انھوں نے شیر کے حوصلوں کو محسوس کیا وہیں چونٹی کی ہمت کی بھی داد دی۔ وہ اپنی غزلوں میں قاری کو محبوب کی زلفوں کے پیچ و خم میں الجھاتے نہیں۔ وہ قاری کو خطیبانہ، ناصحانہ اور اصلاحی راہوں پر ڈالنے کی بھرپور کوشش کر تے ہیں۔ الفاظ کی سادگی اور برجستگی ان کے کلام کے زیورات ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close