آپ آئے تو سمن زار سے خوشبو آئی

احمد علی برقی اعظمی

آمنہ کے درودیوار سے خوشبو آئی

’’ آپ آئے تو سمن زار سے خوشبو آئی‘‘

پھول مہکے گل و گلزار سے خوشبو آئی

آپ کے شیوۂ گفتار سے خوشبو آئی

پھول جھڑتے تھے لبِ لعلیں سے وقتِ گفتار

دلنشیں آپ کے کردار سے خوشبو آئی

آپ مکے میں مکیں ہوں کہ مدینے میں رہے

ہر طرف کوچہ و بازار سے خوشبو آئی

ان کے گلہائے شریعت سے عیاں ہے سب پر

ان کی ہر عادت و اطوار سے خوشبو آئی

خُطبہ خواں جب وہ ہوئے کوہِ صفا پر اُس دم

جافزا ایسے میں کُہسار سے خوشبو آئی

تھے سبھی گوش بر آواز صحابہ جس کے

ان کی تقریر کے معیار سے خوشبو آئی

جس کا خلاقِ دوعالم بھی ہے شیدا برقی

آپ کی زلفِ طرحدار سے خوشبو آئی



⋆ احمد علی برقی اعظمی

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

یہ جھانکی ہے آکاش وانی کی شان

یہ ہے جشنِ جمہوریت کا نشان یہ جھانکی ہے آکاش وانی کی شان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے